Friday, 27 November 2020

Joseph stalin speech at Red Army parade on the Red square. کامریڈ اسٹالن کی بالشویک انقلاب کی بیسویں سالگرہ کے موقع پر ریڈ اسکوائر میں تقریر

how did the soviet union defeat

how did hitler’s invasion of the soviet union work

hat stopped the german advance during the invasion of the soviet union in 1941

battle of stalingrad




کامریڈ سٹالن کی ریڈاسکوائر میں ریڈ آرمی پریڈ میں تقریر 


7

نومبر1947



ترجمہ  علی عمران کاہلوں






کامریڈز ، ریڈ آرمی اور ریڈ نیوی کے جوانوں، کمانڈرز اور سیاسی انسٹرکٹرز، ورکنگ مینز اور ورکنگ خواتین، اجتماع مرد و خواتین کسانوں ، فکری پیشوں میں کام کرنے والوں، ہمارے دشمن کے عقب میں موجود بھائی اور بہنیں جو عارضی طور پر جرمن بریگیڈوں کی قدو قامت کے سامنے پسپا ہیں  اور ہمارے وہ بہادر خواتین اور مرد گوریلے جو جرمن حملہ آوروں کے عقبی حصے کو تباہ کر رہے ہیں۔سوویت حکومت اور ہماری بالشویک پارٹی کی طرف سے میں آپ کو سلام پیش کر رہا ہوں اور آپ کو عظیم اکتوبر سوشلسٹ انقلاب کی بیس ویں سالگرہ کی مبارکباد دے رہا ہوں۔

ساتھیو، یہ سخت حالات میں جن میں ہم آج  اکتوبر انقلاب کی بیس ویں سالگرہ کا جشن منارہے ہیں . جرمن نازیوں کے  حملوں اور ہم پر زبردستی مسلط کی جانے والی جنگ نے ہمارے ملک کے لئے خطرہ پیدا کردیا ہے۔ ہم عارضی طور پر متعدد خطے کھو چکے ہیں دشمن لینن گراڈ اور ماسکو کے دروازوں پر نمودار ہوا ہے۔ دشمن نے اس بات کا ارادہ کیا کہ پہلے ہی دھچکے کے بعد ہماری فوج منتشر ہوجائے گی اور ہمارا ملک اس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگا۔ لیکن دشمن نے بالکل غلط اندازہ لگایا ہے. عارضی مصلحتوں کے باوجود ہماری فوج اور بحریہ دلیرانہ طور پر پورے محاذ کے ساتھ دشمن کے حملوں کو پسپا کر رہی ہیں اور اس کو بھاری نقصان پہنچا رہی ہیں ۔ جبکہ ہمارے پورے ملک نے خود کو ایک لڑائی کے کیمپ میں تبدیل کردیا ہے تاکہ ہماری فوج اور ہماری بحریہ کے ساتھ مل کر جرمن حملہ آوروں کی بیخ کنی کا احاطہ کیا جاسکے۔



ایسے وقت بھی آئے جب ہمارا ملک اب سے  بھی زیادہ مشکل حالت میں تھا یاد رہے سال 1918 ء جب ہم نے اکتوبر انقلاب کی پہلی برسی منائی تھی۔ ہمارے ملک کا تین چوتھائی حصہ اس وقت غیر ملکی مداخلت کاروں کے ہاتھ میں تھا۔ یوکرائن، قفقاز، وسطی ایشیا، یورالس، سائبیریا اور مشرق بعید سے ہم عارضی طور پر محروم ہوگئے۔ خوراک کی کمی تھی ، اسلحے کی، فوج کے لئے لباس کی۔ چودہ ریاستیں ہمارے ملک کے خلاف دباؤ ڈال رہی تھیں۔ مگر ہم متحدتھے  ہم حقیر نہ بن پائے ہم نے دل نہیں ہارا. جنگ کی آگ میں ہم نے سرخ فوج  بنا کر اپنے ملک کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا۔ عظیم لینن کی روح نے ہمیں اس وقت مداخلت کاروں کے خلاف جنگ کے لئے متحرک کیا۔ اور کیا ہوا؟ ہم نے مداخلت کاروں کو روند دیا اپنے تمام کھوئے ہوئے علاقے کو برآمد کیا اور فتح حاصل کی۔


آج سے تیئس سال پہلےکی نسبت  ہمارے ملک کا مقام بہت بہتر ہے. ہمارا ملک اب اس سے کئی گنا زیادہ مستحکم ہے جو صنعت خوراک اور خام مال کے حوالے سے تئیس سال پہلے تھا۔ ہمارے اب اتحادی ہیں جو ہمارے ساتھ مل کر جرمن حملہ آوروں کے خلاف ایک متحدہ محاذ قائم رکھے ہوئے ہیں۔ ہم اب یورپ کی ان تمام اقوام کی ہمدردی اور حمایت سے لطف اندوز ہوتے ہیں جو ہٹلر کے استبداد کے جوئے کے نیچے گر چکی ہیں۔ ہمارے پاس اب ایک شاندار فوج اور ایک شاندار بحریہ ہے جو اپنی زندگیوں کے ساتھ ہمارے ملک کی آزادی اور وقار کا دفاع کر رہے ہیں. ہمیں کسی بھی  اسلحہ ، خوراک یا فوج کے لباس کی کوئی سنجیدہ کمی نہیں ہے۔ ہمارے پورے ملک کے تمام لوگ ہماری فوج اور ہماری بحریہ کی حمایت کرتے ہیں انسانی قوت کے ہمارے ذخائر ناقابل تسخیر ہیں۔ عظیم لینن اور ان کے فاتح بینر کی روح ہمیں اب اس محب وطن جنگ میں اسی طرح متحرک کرتی ہے جس طرح انہوں نے تئیس سال پہلے کیا تھا۔

کیا اس میں کوئی شک ہے کہ ہم کر سکتے ہیں اور پابند ہیں جرمن حملہ آوروں کو شکست دے سکتے ہیں؟ دشمن اتنا مضبوط نہیں ہوتا جتنا کچھ خوفزدہ جھوٹے دانشور اس کی تصویر دکھاکر کرتے ہیں۔ شیطان اتنا خوفناک نہیں ہے جتنا اسے پینٹ کیا گیا ہے۔ اس بات سے کون انکار کرسکتا ہے کہ ہماری سرخ فوج نے ایک سے زیادہ بار ونٹڈ جرمن فوجیوں کو پرواز سے گھبرا دیا ہے؟  جرمن پروپیگنڈا کرنے والوں کے نمائشی دعوے سے نہیں بلکہ جرمنی کے اصل موقف سے یہ سمجھنا مشکل نہ ہوگا کہ جرمن فاشسٹ حملہ آوروں کو تباہی کا سامنا ہے۔ آج کے دن جرمنی میں بھوک اور غربت کا راج جنگ کے چار ماہ میں جرمنی نے ساڑھے چار لاکھ مردوں کو کھو دیا ہے ؛ جرمنی کا خون بہہ رہا ہے انسانی طاقت کے اس کے ذخائر فنا ہورہے ہیں غصہ کا جذبہ نہ صرف یورپ کے ان لوگوں میں پھیل رہا ہے جو جرمن حملہ آوروں کے جوئے کے نیچے بلکہ خود جرمن لوگوں میں بھی پھیل چکا ہے جنہیں جنگ کی کوئی انتہا نظر نہیں آرہی ہے۔ جرمن حملہ آور اپنی آخری کوششوں پر زور دے رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جرمنی زیادہ دیر تک اس طرح کے تناؤ کو برقرار نہیں رکھ سکتا۔ مزید چند ماہ ایک اور نصف سال، شاید ایک اور سال، اور ہٹلر جرمنی کو اپنے جرائم کے دباؤ میں دفن کرنا ہوکر رہے گا ۔


کامریڈز ، ریڈ آرمی اور ریڈ نیوی کے جوانوں، کمانڈرز اور سیاسی انسٹرکٹرز، مرد و خواتین گوریلوں، پوری دنیا آپ کی طرف اس قوت کی نظر کر رہی ہے جو جرمن حملہ آوروں کی لوٹ مار کرنے والی ہاریوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یورپ کے غلام لوگ جو جرمن حملہ آوروں کے جوئے کے نیچے گر چکے ہیں وہ آپ کو  آزاد  کے طور پر دیکھتے ہیں. ایک عظیم آزاد کُن مشن تکمیل کو ہے۔آپ اس مشن کے لائق ہو! آپ جنگ لڑ رہے ہیں آزادی کی جنگ. ہمارے عظیم آباؤ اجداد -الیگزینڈر نیوسکی، دمتری ڈونسکوائے، کوزما مینن، دمتری پوزہارسکی، الیگزینڈر سوورو اور میخائل کوٹوزو کی مردانہ تصاویر کو اس جنگ میں آپ کی حوصلہ افزائی کرنے دیں! عظیم لینن کا فاتح بینر آپ کا لوڈسٹار ہے!


جرمن حملہ آوروں کی مکمل تباہی کے لئے! جرمن حملہ آوروں کی موت کیلئے! ہماری شاندار مادر وطن اس کا وقار اور اس کی آزادی زندہ باد! لینن کے بینر تلے، فتح کے آگے"۔

#WW۔2 #Stalin #SovietUnion #USSR #Hitler #Fascism

Tuesday, 21 July 2020

مارکسزم دہریت نہیں ہے

*مارکسزم دہریت نہیں ہے*

کارل مارکس کے بارے میں پاکستان کے اندر عام نظریہ  یہ پایا جاتا ہے کہ یہ دہریت(Atheism) یا خدا کو نہ ماننے والا نظریہ ہے-
حالانکہ مارکس اور اینگلس نے مابعدالطبیعات پر سرے سے کوئی بحث ہی نہیں کی۔
انہوں نےتو کمیون یا طبقات کی معاشی حالت پر بات کی ہے۔
مارکس نے تو اپنے پیش رو اور گرو ہیگل کی عینیت پر بھی ایک دو جملوں کے علاوہ کچھ نہیں لکھا۔
پاکستان جیسے رُجعت پسند ملک میں جہاں تعلیم و تربیت کی کمی ہے اور جہاں فیوڈلزم آج بھی اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا ہے سوشلزم کو مذہب سے لڑا کر اپنی بقا کا سامان پیدا کرنا نہایت آسان اور تیر بہدف نسخہ سمجھتا ہے ، چنانچہ سامراج کی مدد سے اس معاشی نظام کو جو طبقات کا خاتمہ کرتا ہے دہریت ثابت کرتے رہنا فیوڈلز کی مجبوری اور کھیل ہے۔
وہ کھیل جسے کھیلتے ہوئے یہ اب تک کامیابی سے اپنی بالادستی قائم رکھ کر اپنی جاگیرداری بچا رکھی ہے۔
اپنی اس مجبوری کو یہ لوگ مذہب پرستوں کے ذریعے استعمال کرتے ہیں جو اب تک ان کی جنت بچا پانے کا کارن ہے۔
دوسری جانب مذہب پرست وہ طبقہ بن چکا ہے جو سامراجی گماشتوں کا گویا مزدور ہے جو ان کے ہر جائز و ناجائز حکم کو بجا لا کر مزدوری پاتا ہے۔
صورتحال ایسی پیدا ہو چکی ہے کہ مذہبی طبقہ ، مذہب کی اصل تعلیمات سے میلوں دور ہو چکا ہے۔
یہ صورت حال تقریباً ہر مذہب میں پائی جاتی ہے لیکن مسلمان اس کا زیادہ شکار ہیں۔
مارکس اور اینگلس نے جب تاریخ کا مطالعہ کیا تو اس نتیجے پر پہنچے کہ پچھلے دس ہزار سال میں جو طبقاتی نظام پیدا ہوا ہے جس کے باعث اوپری طبقہ نچلے طبقات کا استحصال کرتا ہے تو اس کی بنیادی وجہ "زرائع پیداوار میں ملکیت" کا تصور ہے۔
جب تک یہ تصور ختم نہیں ہو جاتا پرولتاریہ طبقے کا استحصال ختم نہیں کیا جا سکتا۔
اسی تصور ، یعنی ملکیت ، کو بنیاد بنا کر مارکس نے *داس کیپٹل* نامی کتاب لکھی جس میں تفصیل سے اس نے بیان کیا کہ ملکیت کے تصور سے کیسے استحصال وابستہ ہے اور نیز اس سے چھٹکارا حاصل کرکے کیسے ایک بہترین زندگی گزارنا ممکن بنایا جا سکتا ہے جو طبقات پر مشتمل نہیں ہوگی۔
چنانچہ وہ *کیمونسٹ مینیفسٹو* میں لکھتے ہیں *مزدوروں کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے سوائے زنجیروں کے جبکہ پانے کے لئے پوری دنیا ان کے سامنے ہے-*
یہاں یہ وضاحت بھی کر دوں کہ مارکس کے نزدیک تمام غریب طبقات پرولتاریہ نہیں ہوتے بلکہ پرولتاریہ وہ مزدور طبقہ ہوتا ہے جو اپنی قوت محنت منڈی میں لے جا کر بیچتا ہے اور اس کے پاس سوائے اپنی محنت کے اور کوئی نجی ملکیت یا املاک نہیں ہوتیں۔
چنانچہ مارکس کہتا ہے کہ پرولتاریہ آزاد ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ نجی ملکیت کو ختم نہ کر دیا جائے۔
تاریخ عالم میں یہی پرولتاریہ طبقہ جس کے پاس نجی ملکیت نہیں تھی انقلاب لاتا رہا ہے۔
آپ دیکھتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام کے حواری بےگھر و بےدر طبقے پر مشتمل تھے اور یہی حال ابتدائی اسلام کا بھی تھا کہ غلاموں کی ایک بہت بڑی تعداد نے پہلے پہل اسلام قبول کیا۔
دراصل یہ طبقہ اس لیے انقلابی ہوتا ہے کہ اس کے پاس کھونے کے لیے نجی ملکیت تو ہوتی نہیں جس کے جانے کا اسے کوئی خوف ہو لہذا وہ بےخطر کسی انقلاب کا حصہ بن جاتا ہے۔
یہ طبقہ زیادہ تر شہروں میں پایا جاتا ہے۔
یورپ میں اس طبقے کے علاوہ بھی کچھ اور طبقات تھے جو پرولتاریہ کی تعریف میں تو نہیں آتے لیکن انہیں کیٹگریکلی پرولتاریہ میں شامل کیا جاتا ہے۔
جنہیں پیزنٹیری کہا جاتا ہے۔
برصغیر پاک و ہند میں پےزینٹری ایک بہت بڑا طبقہ ہے۔
پےزینٹری وہ طبقہ ہے جسے ہمارے ہاں کسان کہا جاتا ہے جو بڑے بڑے زمینداروں سے زمینوں کے چھوٹے چھوٹے قطعے لے کر فصل اگاتے ہیں اور زمینداروں کو پیسے یا مجموعی پیداوار سے حصہ دیتے ہیں، جنہیں اصطلاح میں *مزارع* کہا جاتا ہے۔
اس طبقے کو مارکس رُجعت پسند طبقہ کہتا ہے۔
وہ اس لیے کہ یہ طبقہ بورژوازی طبقے کے خاتمے میں محض اس لیے دلچسپی رکھتا ہے کہ لینڈ لاردز کے خاتمے کے بعد ان کی لینڈ یا زمینیں ان میں تقسیم ہو جائیں۔
انقلاب فرانس میں نیپولین بونا پاٹ اسی طبقے کے نمائندے کے طور پر شامل ہوا تھا۔
اکہتر میں پاکستان کے ٹوٹنے کی بڑی وجوہات میں سے ایک وجہ مجیب الرحمن کی لینڈ ریفارم بھی تھی۔
اس سے پہلے ان کی جماعت مشرقی پاکستان میں جاگیردارے ختم کر چکی تھی۔
مغربی پاکستان کے جاگیرداروں نے مجیب کو اس لیے بھی ون یونٹ پاکستان کے وزیراعظم کے طور پر قبول نہیں کیا تھا کہ اس نے حسب پروگرام ان کے جاگیردارے ختم کر دینے تھے۔
چنانچہ مغربی پاکستان میں اس کی پارٹی کوئی سیٹ نہیں لے پائی تھی۔
اس جاگیردار طبقے نے بھٹو اور یحیٰ کے ذریعے گیم کھیلا جس میں وہ ملک گنوا بیٹھے۔
بعد میں بھٹو نے اس رُجعت پسند طبقے کو کچھ زمینیں دے کر اپنے ساتھ ملا لیا۔
سوشلسٹ تحریک اگر کامیاب ہو جاتی تو پاکستان نہ ہی تو ٹوٹتا نہ ہی ملک کی یہ درگت بنتی۔
بھٹو اگر نیپولین بونا پاٹ بن جاتے تو پاکستان ٹوٹنے سے بچ سکتا تھا اور سوشلسٹ انقلاب کامیاب ہو جاتا۔
اگر مولانا حمید بھاشانی کیمونسٹ پارٹی کی قیادت ماؤزے تنگ کے کہنے پر نہ چھوڑتے تو بھی حالات بہتر ہوسکتے تھے۔
ہم جب مذہبی طبقات کی بات کرتے ہیں تو ہماری مراد مذہبی سکول آف تھاٹ ہوتی ہے نہ کہ مذہب بذات خود۔
اگر ہم مذہبی بورژوازی طبقے کی بات کریں تو وہاں کون سی مذہبی برابری رو بہ عمل ہوتی ہے۔
افغان جہاد کے نام پر غریبوں کو مروایا گیا لیکن فائدہ چند لوگوں نے اٹھایا۔
جو سائیکل پر تھے پجارو پر آگئے زمینوں جائیدادوں کے مالک بنے جبکہ عام آدمی جہاد میں شریک ہونے کے باوجود وہیں کا وہیں رہا۔
یہ طبقہ رب کی دھرتی رب کا نظام کا نعرہ ضرور لگاتا ہے لیکن ہر تحریک کے بعد مذہبی طبقاتی استحصال کا شکار ہو کر مزید پستا چلا جاتا ہے۔
انقلاب روس کے وقت لینن اور ٹراٹسکی دو سکول آف تھاٹ تھے۔
لینن کے خیال میں انقلابیوں کو رجعت پسند کسانوں سے اتحاد کرنا چاہیے کیونکہ ان کے نزدیک کسان بھی مظلوم طبقہ ہے جسے فرانسیسیوں کی طرح انقلاب لانے میں معاونت کے طور پر شامل کیا جاسکتا ہے جبکہ ٹراٹسکی چاہتے تھے بورژوازی مڈل کلاس کی مدد حاصل کرنا چاہیے۔
مارکس کے نزدیک مڈل کلاس کسانوں سے زیادہ رجعت پسند ہوتی ہے کیونکہ یہ کلاس کسی نہ کسی طرح کچھ نہ کچھ ذاتی ملکیت کی مالک ضرور ہوتی ہے جو اپنے آرام کو تیاگ دینے پر مشکل سے راضی ہوتی ہے۔
اس خیال کے تحت لینن مڈل کلاس کی مدد نہیں لینا چاہتے تھے۔
چنانچہ روسی انقلابیوں نے تقریباً تقریباً انقلاب فرانس کو ہی کاپی کیا۔
روسی انقلاب کے تین بڑے نام ہیں : *پلخنوف* ، *لینن* اور *ٹراٹسکی*-
کسی وقت تفصیل سے ان تینوں کے خیالات پیش کروں گا۔
پلخنوف کو بابائے سوشلزم کہا جاتا ہے اور یہ لینن سے بہت پہلے روس میں سوشلسٹ انقلاب کی بنیاد رکھ چکے تھے۔
لینن کے بڑے بھائی الیگزینڈر بھی ان کی تحریک کا حصہ تھے جو زار روس کو قتل کرنے کے جرم میں خود مار دیے گئے تھے۔ 
راقم لینن کے اسی خیال کے پیش نظر یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان میں انقلاب لانے کے لیے ہمیں پرولتاریہ مذہبی عناصر کی مدد ضرور حاصل کرنا چاہیے۔
ایک تو یہ معاشرے کا بڑا طبقہ ہے دوسرا یہ مظلوم بھی ہے تیسرا قناعت پسند بھی۔
جس سے انقلاب کو بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
سامراجی گماشتوں نے کیمونزم کے بارے میں جو تنفرات ان کے اذہان میں بھر رکھے ہیں انہیں صاف کر کے اس کی اصلی روح کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے۔
مولانا بھاشانی اور عبیداللہ سندھی اور بہت سے دوسرے علماء کی مثالیں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

Saturday, 18 July 2020

دائیں اور بائیں بازو کی سیاست سے کیا مراد ہے

دائیں اور بائیں بازو کی سیاست سے کیا مراد ہے


Left-Right Wing political Spectrum

 علی عمران کاہلوں 

 ڈی ایس ایف فیصل آباد

(ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن)

 دائیں اور بائیں بازو کی سیاست


فرانس کی 1789ء کی قانون ساز مجالس میں چند اصطلاحات وضع ہوئیں۔
جو دراصل سیاسی جماعتوں کی ترتیب کے حوالے سے تھیں 1789ء کی فرانس کی مستطیل پارلیمنٹ میں دائیں بازو وسطی اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتیں تھیں۔دائیں بازو کی جماعتوں سے مراد قدامت پسند یعنی جمود پرست  ،بادشاه کی حامی اور پرانے خیالات کی جماعتیں تھیں۔وسطی جماعتوں سے مراد اعتدال پسند جماعتیں اور بائیں بازو سے مراد ترقی پسند Progressive یعنی تبدیلی نظام کی حمایتی جماعتیں  شامل تھیں  ان جماعتوں میں ترقی پسند , سیکولر ، سوشلسٹ  اور پروگریسو قوم پرست جماعتیں  شامل تھیں۔
عام طور پر بائیں بازو کی خصوصیات آزادی، انقلاب ،مساوات ، برادرانہ حقوق، پیشرفت ، اصطلاحات  اور بین الااقوامیت جیسے نظریات پر زور دینے کی وجہ سے ہوتی ہے جبکہ دائیں بازو کی  خصوصیات اتھارٹی ,درجہ بندی ، شدت پسندی ، بنیاد پرستی اور آرڈر جیسے نظریات پر زور دینے سے ہوتی ہے فرض،روایات،ردِعمل و جمود اور فاشزم وغیرہ-




 بایاں بازو Left_wing 


بائیں بازو والے عام طور پر ترقی پسند ہوتے ہیں ان کی نظر بہتر مستقبل  کی طرف ہوتی ہے۔
یہ  لوگوں کی حمایت کرتے ہیں جو خود کی حمایت نہیں کر سکتے۔ ترقی پسندیت اور مساوات پر یقین رکھتے ہیں۔ بائیں بازو کے لوگ دولت کی برابر تقسیم کے قائل ہوتے ہیں۔
برطانیہ میں لیبر پارٹی ، لیف پارٹی اورگرین پارٹی اھم بائیں بازو کی جماعتیں ہیں وہ ایسے قوانین بنانے پر یقین رکھتی ہیں جو خواتین،نسلی اقلیتوں کو امتیازی سلوک کے خلاف تحفظ فراہم کرتے ہیں ان کا ماننا ہے کہ مالدار لوگوں پر زیادہ ٹیکس لگایا جانا چاہئیے جس دولت کے ارتکاز میں رکاوٹ پیدا ہو ۔

پاکستان میں کمیونسٹ پارٹی،مزدورکسان پارٹی سوشلسٹ

 اور عوامی ورکرز پارٹی بائیں بازو کی اھم سیاسی  جماعتیں ہیں پیپلزپارٹی بھی شروع میں بائیں بازو کی جماعت تھی مگر بعد میں جاگیرداروں اور مفاد پرست لوگوں کے شامل ہو جانے کی وجہ سے دائیں بازو کی جماعت بن گئی۔ کچھ لوگ لبرل ازم کو بھی لیفٹ کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں جو کہ بالکل غلط ہے کیوں کہ لبرل ازم انفرادیت اور دولت کے ارتکاز یعنی سرمایہ داریت کی حمایت کرتا ہے جبکہ بائیں بازو کی بنیادی خصوصیات انفرادیت کی بجائے اجتماعیت اور دولت کی مساوی تقسیم ہیں  البتہ سیکولرازم بائیں بازو کی خصوصیت ہے کیونکہ وہ مذہب کے ریاست میں مداخلت کا مخالف ہے ۔



 دایاں بازو Right_wing :


دائیں بازو والے عقائد اور روایات کو اھمیت دیتے ہیں۔
دائیں بازو کی حامل جماعتیں قدامت پسند تبدیلی کے خلاف،اور جمود کو برقرار رکھنے کی  حمایتی جماعتیں ہوتی ہیں۔
دائیں بازو کی جماعتیں  کٹر قوم پرستی اور سرمایہ دارانہ سوچ کی  حامل جماعتیں  ہوتی ہیں۔
ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ نظام کو ایسے ہی چلنے دیا جائے مذہبی جماعتیں بھی عام طور پر دائیں بازو سے وابسطہ ہوتی ہیں۔ امریکہ میںRepublican Party  اور UK میں کنزرویٹو پارٹی انڈیا بی جے پی  اور کانگرس  پاکستان میں مسلم لیگ،پیپلزپارٹی،تحریکِ اِنصاف اور جماعتِ اسلامی دائیں بازو کی اہم جماعتیں ہیں-   نیشنلزم یعنی قوم پرستی انقلاب فرانس کے وقت بائیں بازو کی حمایتی تھی جبکہ فاشزم ،شاونزم انتہائی دائیں بازو کا حصہ ہیں جبکہ پروگریسو نیشنلزم بائیں بازو کی خصوصیت ہے ۔

Friday, 17 July 2020

Dialectical Materialism جدلیاتی مادیت

جدلیاتی مادیت 
انسان کی ایک فطری صلاحیت یہ ھے کہ وہ مختلف اشیاء کی شناخت اور ان کی خصوصیات کو ان کے ناموں سے یاد رکھ لیتا ھے اور اس طرح اس کے پاس علم الاشیاء کے حصول کی صفت پائی جاتی ھے جو کہ دیگر انواع میں موجود نہیں یا ان کا ارتقاء اس سطح( Level)
تک نہیں پہنچا۔انسان نے لاکھوں برسوں کی مشترکہ کاوش سے اپنے اسی علم الاشیاء کی بدولت مختلف سماجی ،سیاسی ، معاشی اور سائنسی علوم باقاعدہ شکل میں مرتب کئے اور خصوصی طور پر سائنس کو باقاعدہ علم کے طور پر مرتب کئے جانے کے بعد سائنسی ترقی کی رفتار کو بہت تیز کیا ھے بےشمار حیرت انگیز ایجادات کیلئے راہ ہموار کی ھے ۔ان ایجادات نے انسانی زندگی کو سہل کرنا تھا مگر انہیں چند افراد کی دولت و ثروت میں اضافے کا وسیلہ بنا لیا گیا ، تاہم سائنس کی بدولت انسان نے نظامِ قدرت کی مضمر فطرتی  رازوں کو بھی پالیا ، نظامِ قدرت کے مختلف اصولوں کو سمجھ کر انہیں الفاظ کا جامہ پہنا دیا ، 
آج مادی اشیاء سے متعلق مختلف علوم جدید شکل میں الفاظ کے ذریعے حاصل کئے جاتے ہیں اس لئے  مادی اشیاء کی نوعیت اور انکی خصوصیات کو الفاظ کے ذریعے بیان کرنے کے عمل کو جدلیاتی مادیت
Dialectical materialism 
کیا جاتا ھے 
جدلیاتی مادیت کارل مارکس کا بنیادی فلسفہ ھے جس میں کائنات اور انسانی معاشرے کی مادی حقیقت کو وضاحت سے بیان کیا جاتا ھے، اسمیں مادہ
(Matter) 
کو تصور ، خیال ، سوچ، فکر ،وہم (Ideal) سے حقیقی(Real) کی جانب موڑا جاتا ھے ، جدلیاتی مادیت کے مطابق ذہن (Mind ) خود بھی مادی وجود رکھتا ھے اس لئے تصور، خیال ، وہم ، خیال ،فکر "مادے" کی ایک خصوصیت کا نام ھے 
انسان کی زندگی کا دارومدار اور اسکا براہِ راست تعلق مادی اشیاء سے ھے کیونکہ جس خوراک کو انسان اپنی زندگی کو قائم رکھنے کے لئے استعمال کرتا ھے وہ بھی مادی وجود رکھتی ھے ۔جدلیاتی مادیت کے فلسفے میں بنیادی بحث مادے کو حقیقی تسلیم کرنے سے متعلق ھے اس فلسفے میں وہ تمام بنیادی نکات زیرِ بحث لائے جاتے ہیں جن کو بنیاد بنا کر انسانی سماج کی ترقی اس کی تہذیب اور اسکی ثقافت کو مادیت کی تنظیم اور ارتقاء سے وابستہ کیا جاتا ھے اور یہ ثابت کیا جاتا ھے  کہ آج کی سائنس جو ایک باقاعدہ منظم علم کی صورت میں کئی شاخوں (Branches) کی شکل میں دنیا بھر میں پڑھائی جارہی ھے اس کے ذریعے مادی وسائل کو بروئے کار لا کر انسانی سماج کو سہولت فراہم کی جاسکتی ھے۔ 
مگر ان مادی وسائل کو چند ساہو کاروں،سرمایہ داروں کی شرحِ منافع میں اضافے کیلئے استعمال کیا جارہا ھے۔
 تاہم ایجادات بہرحال کی جارہی ھے
سماج سے ان ایجادات کا تضاد مشترکہ اور غیر ہموار ہونے سے پیچیدہ ہورہا ھے،ان پیچیدگیوں کو کھولنا جدلیاتی مادیت کے فلسفے کا آج کا حقیقی موضوع ہونا ھے

اشتراکیت /سوشلزم کمیونزم

اشتراکیت کی تعریف اور مفہوم اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ ،اشتراکیت اور کیمونزم استحصال سے پاک معاشرے کا قائم ہے جہاں انسان کی مانگ کا خاتمہ ہو گا۔ مارکسزم ایک سماجی سائنس ہے جس طرح زندگی کی بائیلوجی، مادے کی فزکس، کیمیکل کی کیمسڑی ہے جومعاشرے میں انسان کو اﺅل حثیت دے کر اس کی تمام ضروریات کی باز یابی کی مکمل ضمانت ہے طبقاتی اور غیر مساویانہ سماج کے خلاف ٹھوس اور مادی جہدوجہدکے قوانین کی آگاہی دیتی ہے انسان کو اپنا مقدر خود بنانے کی ترغیب اور تمام سماجی ذریعے پیداوارکو بھر پور استعمال کر کے انسانی سماج سے استحصال بھوک ننگ افلاس کا مکمل خاتمہ کر کے روٹی کمانے کی ذلت آمیز مزدوری سے نجات اور اس محنت کو تخلیق اور تسخیر کائنات کے لیے کار آمد بناناہے نہ کہ ساری زندگی انسانوں کی ایک بڑی اکثریت چند لوگوں کی مراعات اورعیاشیوں کے لیے مزدوری اور غلامی کرتی رہے۔ اس لیے سوشلزم کا بھی تمام مذاہب سے وہی تعلق ہے جو دوسری سائنسی مضامین کا مذاہب سے ہے پھر یہ سوچنے کی بات ہے کہ صرف سوشلزم کی سماجی سائنس کے خلاف ہر وقت ہر جگہ اسی کے خلاف اتنا پراپیگنڈہ کیوں ہے؟

یہ با لکل صاف اور واضح ہے اور مارکسزم کا تھوڑا سا بھی علم رکھنے والا اس کا منہ توڑ جواب بڑی آسانی سے دے گاکیونکہ یہ نظریہ عوام کواس کی اپنی زبان،عزت نفس،اپنی قسمت، تقدیر اوراپنی بے پناہ طاقت اور اس کی آگاہی عطا کر تا ہے۔

اور یہی دولت مندوں کو قابل قبول نہیں جس سے ان کا سرمایہ پر قائم رتبہ اور فضلیت کو نقصان پہنچے۔ (آگاہ رہیں۔ یہاں سے آگے کے مندرجات اشتراکیت پر معلومات کی بجائے صرف مذہب پر تنقید کرتے ہیں جن کا مضمون ھذا سے کوئی تعلق نہیں۔ شکریہ۔) ملا،پنڈت اور پادری بھی اپنی مراعات کے لیے انہیں کے محتاج ہیں اس لیے یہ بھی انہیں کے گن گاتے ہیں اور معصوم اور لا علم شہریوں کو اپنے جہالت کے پھندے میں پھنسا کر اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں خود کش حملے کرنے والے انہیں کے مہرے بنتے ہیں جو وہ اپنی معاشی اور سماجی ضرورتوں کے تحت ان بے چاروں کے حا لات اور پسماندہ شعور سے فائدہ اٹھا کر چلتے ہیں۔ یہ مذہب کی آڑ میں لوگوں کو تو اپنے آج کو کل پر قربان کرنے کی نیک ہداہت اور تلقیں کرتے ہیں جبکہ اپنا آج زیادہ سے زیادہ خونصورت اور حسین بناتے ہیں ہمیں خاموشی سے تکلیفیں، دکھ،درد اور عذاب جو موجودہ نظام کی دین ہے برداشت کرنے کو گناہوں کا ازلہ اور امتحان کی گھڑی کہہ کر صبر کا درس دیتے ہیں جبکہ یہ خود ہر امتحان اور گناہوں سے بالاہیں اور اپنے مفادات کے حصول میں یہ کمال کی بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ آج پاکستان کے عوام کی شعوری تباہی اور ملکی تباہی، بربادی میں ان کا سب سے زیادہ ہاتھ ہے۔ جو یہ ہمیں علما تبلیغ کرتے ہیں ان کی اپنی ذاتی زندگی اس کے بالکل الٹ ہے انکا رہن سہن، خوراک، علاج سفر،غرض ہر سہولت اور آسائش موجود ہے ان کی اولادیں یورپ اور امریکا میں تعلیم اور ہر عیاشی کا مزہ لوٹ رہے ہیں،مذہبی جماعتوں کے رہنماﺅں کی زندگیاں اور ان کے بچوں کے حالات آج عوام سے ڈھکے چھوپے نہیں ہیں جو عوام کی زندگیوں سے مختلف ہیں،جب کے یہ پھر بھی بڑی بے شرمی اور ہٹ دھرمی سے ہمیں صبر اور قناعت کاسبق دیتے نہیں تھکتے اور خود نہیں بلکہ صرف ہمیں ہی جہنم کے خوف سے ڈراتے ہیں، یہاں مجھے چور مچاے شور کی کحاوت یاد آتی ہے۔


لیکن علماء کرام کا موقف بھی بالکل ٹھیک ہے اسلام اشتراکیت کے بالکل الٹ ایک علیدہ نظام ہے اس کے لئے پیر غزالی زماں مفتی محمد احمد سعید کاظمی کی کتاب اسلام اور اشتراکیت پڑھئے

جبکہ یہ اپنے مفادات پر کسی قسم کی ہلکی سی چوٹ بھی برداشت نہیں کرتے ان کی حفاظت کی فکر ان کو ہر وقت لاحق رہتی ہے،ایم،ایم ،اے کا حدود آرئینس کے خلاف تمام بدبو دار شور اور پراپیگنڈے کے باجود اسمبلیوں کی عیاشوں سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہیں ان کے قول اور فعل کا تضاد ایک بار بھر ثابت ہو چکا ہے اور یہ کوئی نیا اور پہلی بار نہیں ہوا بلکہ یہ ان کے جھوٹ، فراڈ اور دھوکا دہی کا مسلسل تسلسل ہے،شرم مگر ان کو نہیں آتی۔ اور شوسلزم کے خلاف ان کا سفید جھوٹ اور الہامی پراپیگنڈہ بھی ان کی مراعات ،آسائشوں، با لادستی اور حکمرانی کا دفاع ہے اس سے زیادہ اس میں کوئی صداقت اور سچ نہیں ہے۔

آج عالمی سطح پربھی سوشلزم کو نہایت توڑ موڑ کر پیش کیا جاتاہے تا کہ ظلم اور طبقاتی استحصال کی حکمرانی کو قائم رکھا جا سکے اس کے لیے جہاں وہ مسلم ممالک میں مذاہب کو بڑی بے دردی اور بھونڈے طریقہ سے استعمال کر تے ہیں وہاں وہ ترقی یافتہ ممالک میں اس کو آمریت اور ناکام نظریہ گردانتے ہیں اس کے لیے وہ روس اور مشرقی یورپ کو بطور بہترین مثال پیش کرتے ہیں۔ یہ جھوٹ نہ صرف پاﺅں کٹا ہے بلکہ سر کٹا بھی ہے اور یہ صرف ان حکمرانوں کا کمال ہے کہ انہوں نے اس کو کھڑا کیا ہوا ہے حئی کہ یہ کوئی انسانی نہیں بلکہ خدائی کام ہی ہو سکتا ہے ویسے تو یہ بھی خدائی طاقت کے دعوے دار ہیں۔

حقیقت اس کے بالکل الٹ ہے۔ پہلی اور فیصلہ کن متفقہ بات یہ ہے کہ کسی ناکامی یا کامیابی کوانسانوں پر استحصال کے لیے استعمال کر نا غیر انسانی ،قابل نفرت اور قابل مذاحمت ہے روس اور مشرقی یورپ کی ناکامی کو ہم بھی تسلیم کر تے ہیں کھلے دماغ اور وسیع ظرف سے لیکن اس طرح جس طرح سچ اور حقائق ہیں نہ کہ ظلم کے لیے جواز اور تنگ نظری سے۔ روس اور مشرقی یورپ کی ناکامی کی بات کرنے سے پہلے ہمیں یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ سوشلزم، کیمو نزم کیا ہے؟کیا ان ممالک میں سوشلزم آیا تھا؟ کیسے؟اور کیوں؟ اور کس لیے؟ اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں کیا تبدلیاں ہوئیں؟اور پھر ہم اس کی ناکامی کے اسباب پر بات کرنے کے قابل ہو سکیں گئے ہمارے حکمرانوں کی سب سے بڑی مصیبت یہ ہے اور ان کے ماننے والوں کی کہ ان کے نزدیک اپنی جہالت پر ہٹ دھرمی سے ڈٹے رہناہی علم و دانش ہے اور اس کا ان کو چاہے رتی بھر بھی علم نہ ہو یہ ہر علم اور چیز کو چاہے ان کو اس کا علم ہو یا نہ ہو یہ اپنی برتری اور افضلیت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ نیم حکیم خطرہ جان اور نیم دانش علم کی دشمن ہوتی ہے۔ حقائق اور تاریخ ہمیں یہ بتاتے ہیں کے روس میں لینن کی قیادت میں عوام کی ایک بڑی اکثریت نے ظالم ترین زار شاہی کی سرمایہ دارانہ حکومت کا تختہ الٹ کر مزدور جمہوریت قائم کئی تمام ذرائع پیدارار کو محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دیے کر بھر پور استعمال میں لا کر زیادہ سے زیادہ پیداوار کر کے عوامی ضرورتوں کو پورا کرنے کی مکمل کوشیش کی گئی۔ جس کے نتیجہ میں اس انقلاب نے رو س کو چند ہی دہائیوں میں ایک پسماندہ ترین ملک سے جو آج کے پاکستان سے بھی کہیں زیادہ ترقی پزیر ملک تھا نہ صرف ترقی یافتہ بنادیا بلکہ سوویٹ یونین دنیا کی دوسری بڑی سپر پاور بن کر ابھرایہ ترقی نہ صرف انسانی تاریخ میں پہلی بار ہوئی تھی بلکہ سرمایہ دارنہ سماج میں ایسی اعلیٰ اور تیز ترین ترقی کا تصور بھی ناپید ہے جس کی بدولت سماج میں انسان کی حقیقی آزادی کو ٹھوس مادی بنیادیں میسر آئیں ہمارے دشمن بھی اس کا اقرار کریں گئے۔

خوندگی 99 فیصد تھی،دنیا میں سب سے زیادہ یونیورسٹی ہولڈر، ڈاکٹر،انجنئیر،سائنس دان اور ماہرین روس کے پاس تھے ترقی کی شرح 28 فیصد سے 30 فیصد تک پہنچ گئی تھی ،خلائی نظام میں میں بھی روس کو دنیا میں اول حثیت حاصل ہے، اس نے سب سے پہلے چاند پر خلائی شٹل بھج کر دنیا کو حیران کر دیا،30 سے زائدبنیادی اور ا ہم صنعتوں میں دنیا کی سب سے زیادہ پیداوار کر تا تھا ،آج بھی انڈر گرونڈ مترو کے نظام میں دنیا کے پہلے نمبر پر ہے، عورتوں کی مردانہ حاکمیت اور طبقاتی،درجاتی استحصال کے خلاف عملی اقدامات کیے گئے،بچوں،بوڑھوں اور عورتوں جو سرمایہ دارانہ سماج میں سب سے زیادہ ظلم کا شکار ہوتے ہیں کو ریاستی مکمل تحفظ دیا گیا،بنیادی اور ثانوی تعلیم تمام آبادی کے لیے مفت اور لازمی تھی، بے روزگاری ایک جرم تھا ،وغیرہ وغیرہ۔

اشتراکیت کیا ہے

اشتراکیت کی تعریف اور مفہوم اس سے زیادہ کچھ نہیں ،اشتراکیت اور کیمونزم استحصال سے پاک معاشرے کا قائم ہے جہاں انسان کی مانگ کا خاتمہ ہو گا۔ مارکسزم ایک سماجی سائنس ہے جس طرح زندگی کی بائیلوجی، مادے کی فزکس، کیمیکل کی کیمسڑی ہے جومعاشرے میں انسان کو اﺅل حثیت دے کر اس کی تمام ضروریات کی باز یابی کی مکمل ضمانت ہے طبقاتی اور غیر مساویانہ سماج کے خلاف ٹھوس اور مادی جہدوجہدکے قوانین کی آگاہی دیتی ہے انسان کو اپنا مقدر خود بنانے کی ترغیب اور تمام سماجی ذریعے پیداوارکو بھر پور استعمال کر کے انسانی سماج سے استحصال بھوک ننگ افلاس کا مکمل خاتمہ کر کے روٹی کمانے کی ذلت آمیز مزدوری سے نجات اور اس محنت کو تخلیق اور تسخیر کائنات کے لیے کار آمد بناناہے نہ کہ ساری زندگی انسانوں کی ایک بڑی اکثریت چند لوگوں کی مراعات اورعیاشیوں کے لیے مزدوری اور غلامی کرتی رہے۔ اس لیے سوشلزم کا بھی تمام مذاہب سے وہی تعلق ہے جو دوسری سائنسی مضامین کا مذاہب سے ہے پھر یہ سوچنے کی بات ہے کہ صرف سوشلزم کی سماجی سائنس کے خلاف ہر وقت ہر جگہ اسی کے خلاف اتنا پراپیگنڈہ کیوں ہے؟  یہ با لکل صاف اور واضح ہے اور مارکسزم کا تھوڑا سا بھی علم رکھنے والا اس کا منہ توڑ جواب بڑی آسانی سے دے گاکیونکہ یہ نظریہ عوام کواس کی اپنی زبان،عزت نفس،اپنی قسمت، تقدیر اوراپنی بے پناہ طاقت اور اس کی آگاہی عطا کر تا ہے۔  اور یہی دولت مندوں کو قابل قبول نہیں جس سے ان کا سرمایہ پر قائم رتبہ اور فضلیت کو نقصان پہنچے۔ (آگاہ رہیں۔ یہاں سے آگے کے مندرجات اشتراکیت پر معلومات کی بجائے صرف مذہب پر تنقید کرتے ہیں جن کا مضمون ھذا سے کوئی تعلق نہیں۔ شکریہ۔) ملا،پنڈت اور پادری بھی اپنی مراعات کے لیے انہیں کے محتاج ہیں اس لیے یہ بھی انہیں کے گن گاتے ہیں اور معصوم اور لا علم شہریوں کو اپنے جہالت کے پھندے میں پھنسا کر اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں خود کش حملے کرنے والے انہیں کے مہرے بنتے ہیں جو وہ اپنی معاشی اور سماجی ضرورتوں کے تحت ان بے چاروں کے حا لات اور پسماندہ شعور سے فائدہ اٹھا کر چلتے ہیں۔ یہ مذہب کی آڑ میں لوگوں کو تو اپنے آج کو کل پر قربان کرنے کی نیک ہداہت اور تلقیں کرتے ہیں جبکہ اپنا آج زیادہ سے زیادہ خونصورت اور حسین بناتے ہیں ہمیں خاموشی سے تکلیفیں، دکھ،درد اور عذاب جو موجودہ نظام کی دین ہے برداشت کرنے کو گناہوں کا ازلہ اور امتحان کی گھڑی کہہ کر صبر کا درس دیتے ہیں جبکہ یہ خود ہر امتحان اور گناہوں سے بالاہیں اور اپنے مفادات کے حصول میں یہ کمال کی بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ آج پاکستان کے عوام کی شعوری تباہی اور ملکی تباہی، بربادی میں ان کا سب سے زیادہ ہاتھ ہے۔ جو یہ ہمیں علما تبلیغ کرتے ہیں ان کی اپنی ذاتی زندگی اس کے بالکل الٹ ہے انکا رہن سہن، خوراک، علاج سفر،غرض ہر سہولت اور آسائش موجود ہے ان کی اولادیں یورپ اور امریکا میں تعلیم اور ہر عیاشی کا مزہ لوٹ رہے ہیں،مذہبی جماعتوں کے رہنماﺅں کی زندگیاں اور ان کے بچوں کے حالات آج عوام سے ڈھکے چھوپے نہیں ہیں جو عوام کی زندگیوں سے مختلف ہیں،جب کے یہ پھر بھی بڑی بے شرمی اور ہٹ دھرمی سے ہمیں صبر اور قناعت کاسبق دیتے نہیں تھکتے اور خود نہیں بلکہ صرف ہمیں ہی جہنم کے خوف سے ڈراتے ہیں، یہاں مجھے چور مچاے شور کی کحاوت یاد آتی ہے۔   لیکن علماء کرام کا موقف بھی بالکل ٹھیک ہے اسلام اشتراکیت کے بالکل الٹ ایک علیدہ نظام ہے اس کے لئے پیر غزالی زماں مفتی محمد احمد سعید کاظمی کی کتاب اسلام اور اشتراکیت پڑھئے  جبکہ یہ اپنے مفادات پر کسی قسم کی ہلکی سی چوٹ بھی برداشت نہیں کرتے ان کی حفاظت کی فکر ان کو ہر وقت لاحق رہتی ہے،ایم،ایم ،اے کا حدود آرئینس کے خلاف تمام بدبو دار شور اور پراپیگنڈے کے باجود اسمبلیوں کی عیاشوں سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہیں ان کے قول اور فعل کا تضاد ایک بار بھر ثابت ہو چکا ہے اور یہ کوئی نیا اور پہلی بار نہیں ہوا بلکہ یہ ان کے جھوٹ، فراڈ اور دھوکا دہی کا مسلسل تسلسل ہے،شرم مگر ان کو نہیں آتی۔ اور شوسلزم کے خلاف ان کا سفید جھوٹ اور الہامی پراپیگنڈہ بھی ان کی مراعات ،آسائشوں، با لادستی اور حکمرانی کا دفاع ہے اس سے زیادہ اس میں کوئی صداقت اور سچ نہیں ہے۔  آج عالمی سطح پربھی سوشلزم کو نہایت توڑ موڑ کر پیش کیا جاتاہے تا کہ ظلم اور طبقاتی استحصال کی حکمرانی کو قائم رکھا جا سکے اس کے لیے جہاں وہ مسلم ممالک میں مذاہب کو بڑی بے دردی اور بھونڈے طریقہ سے استعمال کر تے ہیں وہاں وہ ترقی یافتہ ممالک میں اس کو آمریت اور ناکام نظریہ گردانتے ہیں اس کے لیے وہ روس اور مشرقی یورپ کو بطور بہترین مثال پیش کرتے ہیں۔ یہ جھوٹ نہ صرف پاﺅں کٹا ہے بلکہ سر کٹا بھی ہے اور یہ صرف ان حکمرانوں کا کمال ہے کہ انہوں نے اس کو کھڑا کیا ہوا ہے حئی کہ یہ کوئی انسانی نہیں بلکہ خدائی کام ہی ہو سکتا ہے ویسے تو یہ بھی خدائی طاقت کے دعوے دار ہیں۔  حقیقت اس کے بالکل الٹ ہے۔ پہلی اور فیصلہ کن متفقہ بات یہ ہے کہ کسی ناکامی یا کامیابی کوانسانوں پر استحصال کے لیے استعمال کر نا غیر انسانی ،قابل نفرت اور قابل مذاحمت ہے روس اور مشرقی یورپ کی ناکامی کو ہم بھی تسلیم کر تے ہیں کھلے دماغ اور وسیع ظرف سے لیکن اس طرح جس طرح سچ اور حقائق ہیں نہ کہ ظلم کے لیے جواز اور تنگ نظری سے۔ روس اور مشرقی یورپ کی ناکامی کی بات کرنے سے پہلے ہمیں یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ سوشلزم، کیمو نزم کیا ہے؟کیا ان ممالک میں سوشلزم آیا تھا؟ کیسے؟اور کیوں؟ اور کس لیے؟ اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں کیا تبدلیاں ہوئیں؟اور پھر ہم اس کی ناکامی کے اسباب پر بات کرنے کے قابل ہو سکیں گئے ہمارے حکمرانوں کی سب سے بڑی مصیبت یہ ہے اور ان کے ماننے والوں کی کہ ان کے نزدیک اپنی جہالت پر ہٹ دھرمی سے ڈٹے رہناہی علم و دانش ہے اور اس کا ان کو چاہے رتی بھر بھی علم نہ ہو یہ ہر علم اور چیز کو چاہے ان کو اس کا علم ہو یا نہ ہو یہ اپنی برتری اور افضلیت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ نیم حکیم خطرہ جان اور نیم دانش علم کی دشمن ہوتی ہے۔ حقائق اور تاریخ ہمیں یہ بتاتے ہیں کے روس میں لینن کی قیادت میں عوام کی ایک بڑی اکثریت نے ظالم ترین زار شاہی کی سرمایہ دارانہ حکومت کا تختہ الٹ کر مزدور جمہوریت قائم کئی تمام ذرائع پیدارار کو محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دیے کر بھر پور استعمال میں لا کر زیادہ سے زیادہ پیداوار کر کے عوامی ضرورتوں کو پورا کرنے کی مکمل کوشیش کی گئی۔ جس کے نتیجہ میں اس انقلاب نے رو س کو چند ہی دہائیوں میں ایک پسماندہ ترین ملک سے جو آج کے پاکستان سے بھی کہیں زیادہ ترقی پزیر ملک تھا نہ صرف ترقی یافتہ بنادیا بلکہ سوویٹ یونین دنیا کی دوسری بڑی سپر پاور بن کر ابھرایہ ترقی نہ صرف انسانی تاریخ میں پہلی بار ہوئی تھی بلکہ سرمایہ دارنہ سماج میں ایسی اعلیٰ اور تیز ترین ترقی کا تصور بھی ناپید ہے جس کی بدولت سماج میں انسان کی حقیقی آزادی کو ٹھوس مادی بنیادیں میسر آئیں ہمارے دشمن بھی اس کا اقرار کریں گئے۔  خوندگی 99 فیصد تھی،دنیا میں سب سے زیادہ یونیورسٹی ہولڈر، ڈاکٹر،انجنئیر،سائنس دان اور ماہرین روس کے پاس تھے ترقی کی شرح 28 فیصد سے 30 فیصد تک پہنچ گئی تھی ،خلائی نظام میں میں بھی روس کو دنیا میں اول حثیت حاصل ہے، اس نے سب سے پہلے چاند پر خلائی شٹل بھج کر دنیا کو حیران کر دیا،30 سے زائدبنیادی اور ا ہم صنعتوں میں دنیا کی سب سے زیادہ پیداوار کر تا تھا ،آج بھی انڈر گرونڈ مترو کے نظام میں دنیا کے پہلے نمبر پر ہے، عورتوں کی مردانہ حاکمیت اور طبقاتی،درجاتی استحصال کے خلاف عملی اقدامات کیے گئے،بچوں،بوڑھوں اور عورتوں جو سرمایہ دارانہ سماج میں سب سے زیادہ ظلم کا شکار ہوتے ہیں کو ریاستی مکمل تحفظ دیا گیا،بنیادی اور ثانوی تعلیم تمام آبادی کے لیے مفت اور لازمی تھی، بے روزگاری ایک جرم تھا ،وغیرہ وغیرہ۔

معاشیات میں ایڈم اسمتھ کا غیر مرئی ہاتھ ( invisible hand) کا نظریہ اور مارکسی تنقید

معاشیات میں ایڈم اسمتھ کا غیر مرئی ہاتھ  ( invisible hand) کا نظریہ اور مارکسی تنقید   علی عمران   غیر مرئی ہاتھ (invisible hand) کا تصور س...