Tuesday, 21 July 2020

مارکسزم دہریت نہیں ہے

*مارکسزم دہریت نہیں ہے*

کارل مارکس کے بارے میں پاکستان کے اندر عام نظریہ  یہ پایا جاتا ہے کہ یہ دہریت(Atheism) یا خدا کو نہ ماننے والا نظریہ ہے-
حالانکہ مارکس اور اینگلس نے مابعدالطبیعات پر سرے سے کوئی بحث ہی نہیں کی۔
انہوں نےتو کمیون یا طبقات کی معاشی حالت پر بات کی ہے۔
مارکس نے تو اپنے پیش رو اور گرو ہیگل کی عینیت پر بھی ایک دو جملوں کے علاوہ کچھ نہیں لکھا۔
پاکستان جیسے رُجعت پسند ملک میں جہاں تعلیم و تربیت کی کمی ہے اور جہاں فیوڈلزم آج بھی اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا ہے سوشلزم کو مذہب سے لڑا کر اپنی بقا کا سامان پیدا کرنا نہایت آسان اور تیر بہدف نسخہ سمجھتا ہے ، چنانچہ سامراج کی مدد سے اس معاشی نظام کو جو طبقات کا خاتمہ کرتا ہے دہریت ثابت کرتے رہنا فیوڈلز کی مجبوری اور کھیل ہے۔
وہ کھیل جسے کھیلتے ہوئے یہ اب تک کامیابی سے اپنی بالادستی قائم رکھ کر اپنی جاگیرداری بچا رکھی ہے۔
اپنی اس مجبوری کو یہ لوگ مذہب پرستوں کے ذریعے استعمال کرتے ہیں جو اب تک ان کی جنت بچا پانے کا کارن ہے۔
دوسری جانب مذہب پرست وہ طبقہ بن چکا ہے جو سامراجی گماشتوں کا گویا مزدور ہے جو ان کے ہر جائز و ناجائز حکم کو بجا لا کر مزدوری پاتا ہے۔
صورتحال ایسی پیدا ہو چکی ہے کہ مذہبی طبقہ ، مذہب کی اصل تعلیمات سے میلوں دور ہو چکا ہے۔
یہ صورت حال تقریباً ہر مذہب میں پائی جاتی ہے لیکن مسلمان اس کا زیادہ شکار ہیں۔
مارکس اور اینگلس نے جب تاریخ کا مطالعہ کیا تو اس نتیجے پر پہنچے کہ پچھلے دس ہزار سال میں جو طبقاتی نظام پیدا ہوا ہے جس کے باعث اوپری طبقہ نچلے طبقات کا استحصال کرتا ہے تو اس کی بنیادی وجہ "زرائع پیداوار میں ملکیت" کا تصور ہے۔
جب تک یہ تصور ختم نہیں ہو جاتا پرولتاریہ طبقے کا استحصال ختم نہیں کیا جا سکتا۔
اسی تصور ، یعنی ملکیت ، کو بنیاد بنا کر مارکس نے *داس کیپٹل* نامی کتاب لکھی جس میں تفصیل سے اس نے بیان کیا کہ ملکیت کے تصور سے کیسے استحصال وابستہ ہے اور نیز اس سے چھٹکارا حاصل کرکے کیسے ایک بہترین زندگی گزارنا ممکن بنایا جا سکتا ہے جو طبقات پر مشتمل نہیں ہوگی۔
چنانچہ وہ *کیمونسٹ مینیفسٹو* میں لکھتے ہیں *مزدوروں کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے سوائے زنجیروں کے جبکہ پانے کے لئے پوری دنیا ان کے سامنے ہے-*
یہاں یہ وضاحت بھی کر دوں کہ مارکس کے نزدیک تمام غریب طبقات پرولتاریہ نہیں ہوتے بلکہ پرولتاریہ وہ مزدور طبقہ ہوتا ہے جو اپنی قوت محنت منڈی میں لے جا کر بیچتا ہے اور اس کے پاس سوائے اپنی محنت کے اور کوئی نجی ملکیت یا املاک نہیں ہوتیں۔
چنانچہ مارکس کہتا ہے کہ پرولتاریہ آزاد ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ نجی ملکیت کو ختم نہ کر دیا جائے۔
تاریخ عالم میں یہی پرولتاریہ طبقہ جس کے پاس نجی ملکیت نہیں تھی انقلاب لاتا رہا ہے۔
آپ دیکھتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام کے حواری بےگھر و بےدر طبقے پر مشتمل تھے اور یہی حال ابتدائی اسلام کا بھی تھا کہ غلاموں کی ایک بہت بڑی تعداد نے پہلے پہل اسلام قبول کیا۔
دراصل یہ طبقہ اس لیے انقلابی ہوتا ہے کہ اس کے پاس کھونے کے لیے نجی ملکیت تو ہوتی نہیں جس کے جانے کا اسے کوئی خوف ہو لہذا وہ بےخطر کسی انقلاب کا حصہ بن جاتا ہے۔
یہ طبقہ زیادہ تر شہروں میں پایا جاتا ہے۔
یورپ میں اس طبقے کے علاوہ بھی کچھ اور طبقات تھے جو پرولتاریہ کی تعریف میں تو نہیں آتے لیکن انہیں کیٹگریکلی پرولتاریہ میں شامل کیا جاتا ہے۔
جنہیں پیزنٹیری کہا جاتا ہے۔
برصغیر پاک و ہند میں پےزینٹری ایک بہت بڑا طبقہ ہے۔
پےزینٹری وہ طبقہ ہے جسے ہمارے ہاں کسان کہا جاتا ہے جو بڑے بڑے زمینداروں سے زمینوں کے چھوٹے چھوٹے قطعے لے کر فصل اگاتے ہیں اور زمینداروں کو پیسے یا مجموعی پیداوار سے حصہ دیتے ہیں، جنہیں اصطلاح میں *مزارع* کہا جاتا ہے۔
اس طبقے کو مارکس رُجعت پسند طبقہ کہتا ہے۔
وہ اس لیے کہ یہ طبقہ بورژوازی طبقے کے خاتمے میں محض اس لیے دلچسپی رکھتا ہے کہ لینڈ لاردز کے خاتمے کے بعد ان کی لینڈ یا زمینیں ان میں تقسیم ہو جائیں۔
انقلاب فرانس میں نیپولین بونا پاٹ اسی طبقے کے نمائندے کے طور پر شامل ہوا تھا۔
اکہتر میں پاکستان کے ٹوٹنے کی بڑی وجوہات میں سے ایک وجہ مجیب الرحمن کی لینڈ ریفارم بھی تھی۔
اس سے پہلے ان کی جماعت مشرقی پاکستان میں جاگیردارے ختم کر چکی تھی۔
مغربی پاکستان کے جاگیرداروں نے مجیب کو اس لیے بھی ون یونٹ پاکستان کے وزیراعظم کے طور پر قبول نہیں کیا تھا کہ اس نے حسب پروگرام ان کے جاگیردارے ختم کر دینے تھے۔
چنانچہ مغربی پاکستان میں اس کی پارٹی کوئی سیٹ نہیں لے پائی تھی۔
اس جاگیردار طبقے نے بھٹو اور یحیٰ کے ذریعے گیم کھیلا جس میں وہ ملک گنوا بیٹھے۔
بعد میں بھٹو نے اس رُجعت پسند طبقے کو کچھ زمینیں دے کر اپنے ساتھ ملا لیا۔
سوشلسٹ تحریک اگر کامیاب ہو جاتی تو پاکستان نہ ہی تو ٹوٹتا نہ ہی ملک کی یہ درگت بنتی۔
بھٹو اگر نیپولین بونا پاٹ بن جاتے تو پاکستان ٹوٹنے سے بچ سکتا تھا اور سوشلسٹ انقلاب کامیاب ہو جاتا۔
اگر مولانا حمید بھاشانی کیمونسٹ پارٹی کی قیادت ماؤزے تنگ کے کہنے پر نہ چھوڑتے تو بھی حالات بہتر ہوسکتے تھے۔
ہم جب مذہبی طبقات کی بات کرتے ہیں تو ہماری مراد مذہبی سکول آف تھاٹ ہوتی ہے نہ کہ مذہب بذات خود۔
اگر ہم مذہبی بورژوازی طبقے کی بات کریں تو وہاں کون سی مذہبی برابری رو بہ عمل ہوتی ہے۔
افغان جہاد کے نام پر غریبوں کو مروایا گیا لیکن فائدہ چند لوگوں نے اٹھایا۔
جو سائیکل پر تھے پجارو پر آگئے زمینوں جائیدادوں کے مالک بنے جبکہ عام آدمی جہاد میں شریک ہونے کے باوجود وہیں کا وہیں رہا۔
یہ طبقہ رب کی دھرتی رب کا نظام کا نعرہ ضرور لگاتا ہے لیکن ہر تحریک کے بعد مذہبی طبقاتی استحصال کا شکار ہو کر مزید پستا چلا جاتا ہے۔
انقلاب روس کے وقت لینن اور ٹراٹسکی دو سکول آف تھاٹ تھے۔
لینن کے خیال میں انقلابیوں کو رجعت پسند کسانوں سے اتحاد کرنا چاہیے کیونکہ ان کے نزدیک کسان بھی مظلوم طبقہ ہے جسے فرانسیسیوں کی طرح انقلاب لانے میں معاونت کے طور پر شامل کیا جاسکتا ہے جبکہ ٹراٹسکی چاہتے تھے بورژوازی مڈل کلاس کی مدد حاصل کرنا چاہیے۔
مارکس کے نزدیک مڈل کلاس کسانوں سے زیادہ رجعت پسند ہوتی ہے کیونکہ یہ کلاس کسی نہ کسی طرح کچھ نہ کچھ ذاتی ملکیت کی مالک ضرور ہوتی ہے جو اپنے آرام کو تیاگ دینے پر مشکل سے راضی ہوتی ہے۔
اس خیال کے تحت لینن مڈل کلاس کی مدد نہیں لینا چاہتے تھے۔
چنانچہ روسی انقلابیوں نے تقریباً تقریباً انقلاب فرانس کو ہی کاپی کیا۔
روسی انقلاب کے تین بڑے نام ہیں : *پلخنوف* ، *لینن* اور *ٹراٹسکی*-
کسی وقت تفصیل سے ان تینوں کے خیالات پیش کروں گا۔
پلخنوف کو بابائے سوشلزم کہا جاتا ہے اور یہ لینن سے بہت پہلے روس میں سوشلسٹ انقلاب کی بنیاد رکھ چکے تھے۔
لینن کے بڑے بھائی الیگزینڈر بھی ان کی تحریک کا حصہ تھے جو زار روس کو قتل کرنے کے جرم میں خود مار دیے گئے تھے۔ 
راقم لینن کے اسی خیال کے پیش نظر یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان میں انقلاب لانے کے لیے ہمیں پرولتاریہ مذہبی عناصر کی مدد ضرور حاصل کرنا چاہیے۔
ایک تو یہ معاشرے کا بڑا طبقہ ہے دوسرا یہ مظلوم بھی ہے تیسرا قناعت پسند بھی۔
جس سے انقلاب کو بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
سامراجی گماشتوں نے کیمونزم کے بارے میں جو تنفرات ان کے اذہان میں بھر رکھے ہیں انہیں صاف کر کے اس کی اصلی روح کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے۔
مولانا بھاشانی اور عبیداللہ سندھی اور بہت سے دوسرے علماء کی مثالیں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

No comments:

Post a Comment

معاشیات میں ایڈم اسمتھ کا غیر مرئی ہاتھ ( invisible hand) کا نظریہ اور مارکسی تنقید

معاشیات میں ایڈم اسمتھ کا غیر مرئی ہاتھ  ( invisible hand) کا نظریہ اور مارکسی تنقید   علی عمران   غیر مرئی ہاتھ (invisible hand) کا تصور س...