Monday, 6 December 2021

جدلیات کیا ہے ؟

جدلیات کیا ہے 1_ہر شے رواں دوں ہے اور کسی کو دوام نہیں ( ہراقلیطوس)، 2_جدلیات فطرت اور معاشرے کے بارے میں غور وفکر کرنے اور ان کی توضیح کرنے کا طریقہ کار ہے۔ 3_کائنات کو دیکھنے کے اس طریقہ کار کا نقطہء آغاز یہ مسلمہ اصول ہے، کہ ہر چیز مسلسل تغیر اور بہاؤ کی حالت میں ہے، 4_لیکن صرف یہ ہی نہیں، جدلیات واضح کرتی ہے۔ کہ تغیر اور حرکت میں تضاد شامل ہوتا ہے۔ اور صرف تضادات کے ذریعے ہی تغیر اور حرکت ممکن ہوتے ہیں، 5_لہذا ترقی کا عمل ایک سیدھی لکیر کی طرح نہیں ہے بلکہ عرصے تک اس میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں واقع ہوتی رہتی ہیں، 6_جنہیں ہم مقداری تبدیلیاں کہتے ہیں۔ اس کے بعد یکایک نہایت تیز رفتار اور دھماکہ خیز تبدیلی کے ادوارِ آتے ہیں جن میں مقدار معیار میں تبدیل ہوجاتی ہے، جدلیات تضاد کی منطق ہے، 7_جدلیات کے کلیدی کردار کو بہت عرصہ پہلے مانا جا چکا ہے، نظریہ انتشار اور اس کی شاخیں پیچیدگی اور ہرجانیت جدلیاتی مادیت کے اہم نکات کو سچ ثابت کرچکی ہیں۔ 8_لیکن اس حقیقت کو آج تک تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا۔ یہ بہت بڑی بدقسمتی ہے، کیونکہ جدلیاتی طریقہ کار اپنا کر بہت بڑی سائنسی غلطیوں سے بچا جا سکتا تھا، غلطیاں جنہوں نے غلط مفروضوں سے جنم لیا۔ 9_اس حقیقت کو سٹیفن جے گولڈ نے اس طرح تسلیم کیا ہے، کہ اگر سائنسدان انسان نما سے انسان میں تبدیلی میں محنت کے کردار کے اینگلز کے نظریے پر توجہ دیتے تو کئی سو سالوں کی غلطیوں سے بچا جاسکتا تھا، 10_جدلیات کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ نہ صرف ترقی کو مسلسل انداز میں دیکھتی ہے بلکہ یہ بھی دیکھاتی ہے کہ تضاد سے ترقی کس طرح جنم لیتی ہے 11_جدلیاتی طریقہ کار بتاتا ہے کہ کس طرح انتہائی معمولی تبدیلیاں ایک نقطہء انتہا پر پہنچ کر بہت بڑی تبدیلیوں کو جنم دیتی ہیں، اسی کو ہم مقدار کی معیار میں تبدیلی کا قانون کہتے ہیں۔ 12_اس قانون کی اہمیت کو اب کہیں جا کر نظریہ انتشار کے ذریعے سائنس نے پہچانا ہے، اینگلز نے جدلیات کے تین بنیادی قوانین پر بہت تفصیلی کام کیا ہے، مقدار کی معیار میں تبدیلی کا قانون ضدین کے باہمی انضمام کا قانون نفی کی نفی کا قانون 13_پچھلے عشرے میں ہونے والی کئی نئی دریافتوں نے جدلیاتی مادیت کے نظریے کو سچ ثابت کیا ہے۔ 14_خاص طور پر انسانی جینیات میں ہونے والی تحقیق نے ان رجعتی عناصر کو بلکل غلط ثابت کیا ہے۔ 15_جو جینیات کو نسل پرستی ، ہم جنس پرستی کے خلاف نفرت اور نظریہ تخلیق کےلیے استعمال کرتے ہیں۔ 16_یہ سائنس کےلیے ایک عظیم پیش رفت ہے۔ انسانی دماغ میں آکر مادہ اپنے بارے میں باشعور ہوگیا ہے۔ ٹیڈگرانٹ ایلن ووڈز

Sunday, 5 December 2021

عالمی سطح پر نام نہاد جمہوریتوں میں ووٹنگ ٹرن آؤٹ میں بتدریج گراوٹ

 عالمی سطح پر نام نہاد جمہوریتوں میں ووٹنگ ٹرن آؤٹ میں بتدریج گراوٹ


 علی عمران کاہلوں


 11/11/2021"مظلوموں کو ہر چند سال میں ایک بار یہ فیصلہ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے کہ ظالم طبقے کے کون سے مخصوص نمائندے ان کی نمائندگی کریں اور ان کا استحصال کریں گے "۔ کارل مارکس سیاسی سائنسدانوں اور محققین نے ووٹنگ ٹرن میں گراوٹ کے حوالے سے بہت سارے مفروضے پیش کیے ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ لوگوں میں سیاسی عدم اطمینان بڑھ گیا ہے جو لوگوں کو انتخابی عمل سے دور لے گیا ہے ۔ کچھ معاشی عالمگیریت کا حوالہ دیتے ہوئے یہ تجویز کرتے ہیں کہ اگر حکومتیں کم طاقت رکھتی ہیں تو ان کے قومی انتخابات کا داؤ کم ہوتا ہے اور لوگوں کو حصہ لینے کا کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔ نیولبرل جمہوریت پسند مفکرین کا کہنا ہے کہ ووٹر ٹرن آؤٹ کی شرح میں کمی کا باعث بننے والے عوامل پیچیدہ ہیں۔ کمی کا کچھ حصہ ممکنہ طور پر خواتین کے بڑھتے ہوئے حق رائے دہی اور ووٹ ڈالنے کی کم عمر (نوجوان اور خواتین کم ووٹ دینے کے رجحان) جیسے عوامل کی وجہ سے ہے۔ لیکن جمہوری عمل میں بے حسی اور کم ہو رہا اعتماد بھی اہم شراکت دار ہیں۔ حکومتوں پر اعتماد پوری بورژوا جمہوری دنیا میں گر رہا ہے۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ ووٹر ٹرن آؤٹ اس کے ساتھ گر رہا ہے۔ 

 ورلڈ بینک کی 2017 ورلڈ ڈویلپمنٹ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں انتخابی ٹرن آؤٹ کم ہو رہا ہے۔ پچھلے 25 سالوں کے دوران اوسط عالمی ووٹر ٹرن آؤٹ کی شرح میں 10 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی۔ 1980 کے بعد سے عالمی سطح پر نام نہاد جمہوریتوں میں ووٹر ٹرن آؤٹ میں بتدریج حیرت انگیز کمی ہورہی ہے یہ رجحان مغربی یورپ، جاپان اور لاطینی امریکہ اور ساؤتھ ایشیا میں نمایاں رہا ہے۔ یہ کئی دہائیوں سے سیاسی سائنسدانوں کے درمیان تشویش اور تنازعہ کا موضوع ہے اسی عرصے کے دوران سیاسی شمولیت کی دیگر اقسام میں بھی کمی آئی ہے جیسے کہ سیاسی جماعتوں میں رضاکارانہ شرکت اور ٹاؤن میٹنگز میں مبصرین کی حاضری ووٹنگ میں کمی کے ساتھ شہریوں کی بورژوا سیاست میں شرکت میں بھی عام کمی آئی ہے جیسے کہ چرچ ، مساجد ، اور دوسرے مذہبی مقامات میں حاضری، اور طلبہ کی سوسائٹیوں کی طلبہ کی عدم دلچسپی ، نوجوانوں کے آپسی گروپس، اور والدین اساتذہ کی انجمنوں میں رکنیت میں عدم دلچسپی بھی بڑھی ہے

 انیسویں صدی جس میں 1840 تک تقریباً عالمگیر سفید فام مردوں کو حق رائے دہی حاصل تھا۔ امریکہ میں اس صدی کے دوران ووٹروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا جو خانہ جنگی کے بعد کے سالوں میں اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ ٹرن آؤٹ 1890 سے 1930 تک کچھ کم ہوا پھر 1960 تک دوبارہ اضافہ ہوا اور پھر دوبارہ بڑھنے سے پہلے 1990 کی دہائی میں بتدریج کمی کے ایک اور دور میں داخل ہوا۔ یورپ میں 1960 کی دہائی کے وسط سے آخر تک عروج پر پہنچنے سے پہلے عالمگیر حق رائے دہی کے متعارف ہونے سے ووٹر ٹرن آؤٹ میں مسلسل اضافہ ہوا اس کے بعد سے غیر معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔ جبکہ عالمی سطح پر گزشتہ چار دہائیوں کے دوران ووٹر ٹرن آؤٹ میں تقریباً 8 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کمی کی بہت سی وجوہات تجویز کی گئی ہیں۔ جب لوگوں سے پوچھا گیا کہ وہ ووٹ کیوں نہیں دیتے تو بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ ان کے پاس فارغ وقت بہت کم ہے تاہم پچھلی کئی دہائیوں کے دوران مطالعے سے ثابت ہوا ہے کہ فرصت کے وقت کی مقدار میں کمی نہیں آئی ہے۔ ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے ایک مطالعہ کے مطابق، امریکی 1965 کے بعد سے اوسطاً 7.9 گھنٹے فی ہفتہ اضافی تفریحی وقت بتاتے ہیں۔ بہت سی قوموں میں لوگوں کا موجودہ طرز حکومت اور سیاست دانوں پر اعتماد کم ہو گیا ہے۔

 جارجیا کی ایک 36 سالہ رہائشی جو کہتی ہیں کہ وہ پارٹی لائن ووٹر نہیں ہیں اور اپنے خیالات CNBC کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے کہتی ہیں "میں دوبارہ کبھی ووٹ ڈالنے کا ارادہ نہیں رکھتی... اور میرے خاندان کا کوئی فرد اس سال ووٹ نہیں دے رہا ہے" ردعمل کے خوف کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس خاتون نے بتایا کہ ۔ "ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون الیکشن جیتتا ہے،" کیونکہ کسی بھی منتخب سیاستدان نے "ان کی مشکل اور تاریک وقتوں" میں مدد نہیں کی۔ "میں ان امیدواروں کی نمائندگی محسوس نہیں کرتا جو اقتدار میں پارٹیاں پیش کرتی رہتی ہیں" شہری نارمن کہتے ہیں،جو ایک قدامت پسند ہزار سالہ پرانے اشاعت دی ڈو کے لیے لکھتے ہیں، "اور میں ' برائی' کو ووٹ نہیں دوں گا،" وہ کہتے ہیں۔ ووٹ نہ دینے کا فیصلہ امریکہ میں کوئی غیر معمولی موقف نہیں ہے۔ حالیہ دہائیوں میں صدر کے لیے ووٹ دینے والے اہل افراد کی تعداد 50% اور 60% کے درمیان رہی ہے۔ 

 پاکستان میں گزشتہ دہائیوں میں لوگوں کی انتخابی عمل میں عدم دلچسپی بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے 1971کے الیکشن میں ووٹنگ ٹرن آؤٹ 64فیصد رہا جو کہ 1997 کے انتخابات تک بتدریج کم ہوتے ہوتے صرف 35 فیصد رہ گیا جس میں 2008 کے انتخابات میں کچھ اضافہ ہوا اور وہ 44 فیصد سے لیکر 2013 کے الیکشن تک 53 فیصد تک بڑھا لیکن 2018 کے انتخابات میں 55فیصد رہ یہ اگر آپ اس گرواٹ کو غور سے دیکھیں تو واضح ہوتا ہے کہ لوگ اب سمجھ چکے ہیں ان کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں بلکہ اصل کارنامہ ووٹ گننے والے سرانجام دیتے ہیں اس لئے لوگ انتخابی عمل کو محض کاروائی اور فراڈ سمجھتے ہیں اور ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیتے ۔ ووٹنگ ٹرن آؤٹ میں حیرت انگیز کمی نیولبرل ڈیموکریسی کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے ۔

معاشیات میں ایڈم اسمتھ کا غیر مرئی ہاتھ ( invisible hand) کا نظریہ اور مارکسی تنقید

معاشیات میں ایڈم اسمتھ کا غیر مرئی ہاتھ  ( invisible hand) کا نظریہ اور مارکسی تنقید   علی عمران   غیر مرئی ہاتھ (invisible hand) کا تصور س...