Friday, 17 July 2020

Dialectical Materialism جدلیاتی مادیت

جدلیاتی مادیت 
انسان کی ایک فطری صلاحیت یہ ھے کہ وہ مختلف اشیاء کی شناخت اور ان کی خصوصیات کو ان کے ناموں سے یاد رکھ لیتا ھے اور اس طرح اس کے پاس علم الاشیاء کے حصول کی صفت پائی جاتی ھے جو کہ دیگر انواع میں موجود نہیں یا ان کا ارتقاء اس سطح( Level)
تک نہیں پہنچا۔انسان نے لاکھوں برسوں کی مشترکہ کاوش سے اپنے اسی علم الاشیاء کی بدولت مختلف سماجی ،سیاسی ، معاشی اور سائنسی علوم باقاعدہ شکل میں مرتب کئے اور خصوصی طور پر سائنس کو باقاعدہ علم کے طور پر مرتب کئے جانے کے بعد سائنسی ترقی کی رفتار کو بہت تیز کیا ھے بےشمار حیرت انگیز ایجادات کیلئے راہ ہموار کی ھے ۔ان ایجادات نے انسانی زندگی کو سہل کرنا تھا مگر انہیں چند افراد کی دولت و ثروت میں اضافے کا وسیلہ بنا لیا گیا ، تاہم سائنس کی بدولت انسان نے نظامِ قدرت کی مضمر فطرتی  رازوں کو بھی پالیا ، نظامِ قدرت کے مختلف اصولوں کو سمجھ کر انہیں الفاظ کا جامہ پہنا دیا ، 
آج مادی اشیاء سے متعلق مختلف علوم جدید شکل میں الفاظ کے ذریعے حاصل کئے جاتے ہیں اس لئے  مادی اشیاء کی نوعیت اور انکی خصوصیات کو الفاظ کے ذریعے بیان کرنے کے عمل کو جدلیاتی مادیت
Dialectical materialism 
کیا جاتا ھے 
جدلیاتی مادیت کارل مارکس کا بنیادی فلسفہ ھے جس میں کائنات اور انسانی معاشرے کی مادی حقیقت کو وضاحت سے بیان کیا جاتا ھے، اسمیں مادہ
(Matter) 
کو تصور ، خیال ، سوچ، فکر ،وہم (Ideal) سے حقیقی(Real) کی جانب موڑا جاتا ھے ، جدلیاتی مادیت کے مطابق ذہن (Mind ) خود بھی مادی وجود رکھتا ھے اس لئے تصور، خیال ، وہم ، خیال ،فکر "مادے" کی ایک خصوصیت کا نام ھے 
انسان کی زندگی کا دارومدار اور اسکا براہِ راست تعلق مادی اشیاء سے ھے کیونکہ جس خوراک کو انسان اپنی زندگی کو قائم رکھنے کے لئے استعمال کرتا ھے وہ بھی مادی وجود رکھتی ھے ۔جدلیاتی مادیت کے فلسفے میں بنیادی بحث مادے کو حقیقی تسلیم کرنے سے متعلق ھے اس فلسفے میں وہ تمام بنیادی نکات زیرِ بحث لائے جاتے ہیں جن کو بنیاد بنا کر انسانی سماج کی ترقی اس کی تہذیب اور اسکی ثقافت کو مادیت کی تنظیم اور ارتقاء سے وابستہ کیا جاتا ھے اور یہ ثابت کیا جاتا ھے  کہ آج کی سائنس جو ایک باقاعدہ منظم علم کی صورت میں کئی شاخوں (Branches) کی شکل میں دنیا بھر میں پڑھائی جارہی ھے اس کے ذریعے مادی وسائل کو بروئے کار لا کر انسانی سماج کو سہولت فراہم کی جاسکتی ھے۔ 
مگر ان مادی وسائل کو چند ساہو کاروں،سرمایہ داروں کی شرحِ منافع میں اضافے کیلئے استعمال کیا جارہا ھے۔
 تاہم ایجادات بہرحال کی جارہی ھے
سماج سے ان ایجادات کا تضاد مشترکہ اور غیر ہموار ہونے سے پیچیدہ ہورہا ھے،ان پیچیدگیوں کو کھولنا جدلیاتی مادیت کے فلسفے کا آج کا حقیقی موضوع ہونا ھے

No comments:

Post a Comment

معاشیات میں ایڈم اسمتھ کا غیر مرئی ہاتھ ( invisible hand) کا نظریہ اور مارکسی تنقید

معاشیات میں ایڈم اسمتھ کا غیر مرئی ہاتھ  ( invisible hand) کا نظریہ اور مارکسی تنقید   علی عمران   غیر مرئی ہاتھ (invisible hand) کا تصور س...